جمیعت علمائے اسلام کے رہنما مولانا فضل الرحمان کی بیماری کے حوالے سے متضاد خبریں سامنے آرہی ہیں مولانا کی جانب سے اس کو معمول کا چیک اپ کہا جارہا ہے جبکہ ان کے مخالفین کہ رہے ہیں کہ مولانا کی حالت ٹھیک ہوتی تو وزیراعظم اپنی مصروفیات چھوڑ کر ان کی خیریت دریافت کرنے اور عیادت کو نہ آتے مولانا کے ترجمان کے مطابق فضل الرحمان کا نجی اسپتال میں معمول کا طبی معائنہ ہوا۔ انہوں نے کہا، “اس کے معائنے کے دوران ذیابیطس، خون اور دیگر ٹیسٹ کروائے گئے۔”اسلام آباد روانگی سے قبل وہ آج رات لاہور میں قیام کریں گے۔رواں سال جولائی میں مولانا فضل الرحمان کے طبی ٹیسٹ کرائے گئے تھے جس کے بعد ان کے ترجمان نے کہا تھا کہ ڈاکٹروں نے انہیں طبی ٹیسٹ مکمل کرنے کے لیے دو دن اسپتال میں داخل رہنے کا مشورہ دیا ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ جے یو آئی (ف) کے سربراہ معمول کے چیک اپ کے لیے لاہور کے نجی اسپتال میں موجود تھے۔ مولانا فضل الرحمان معمول کے چیک اپ کے لیے اسلام آباد سے لاہور گئے۔ ڈاکٹروں نے انہیں دو دن ہسپتال میں رہ کر اپنے طبی ٹیسٹ مکمل کرنے کا مشورہ دیا۔ترجمان نے تصدیق کی کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے جے یو آئی (ف) کے سربراہ سے ملاقات کی اور ہسپتال کے عملے کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کا حکم دیا۔ انہوں نے ہسپتال آنے پر وزیراعظم کا شکریہ بھی ادا کیا۔

قبل ازیں یہ خبر سامنے آئی تھی کہ جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی طبیعت بگڑنے پر انہیں اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔جمعیت علمائے اسلام فضل (جے یو آئی-ف) کے سربراہ کی طبیعت بگڑ گئی اور لاہور کے ایک اسپتال میں ان کا طبی معائنہ کرایا گیا۔