اسلام آباد ہائیکورٹ کے 5 رکنی بنچ نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے خلاف ججز کے خلاف دھمکی آمیز بیان دینے پر فردِ جرم عائد کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے توہینِ عدالت کیس میں عمران خان کا جواب مسترد کردیا۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ ننے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ عمران خان پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ ہوا ہے، ان پر دو ہفتے بعد فردِ جرم عائد کی جائے گی۔

عدالت کی خواہش تھی کہ عمران کان اپنے دئے گئے بیان پر معافی مانگیں اور اپنا بیان بھی واپس لیں مگر عمران خان کو لگتا ہے کہ بہت سے سیاسی رہنماؤں نے فوج اور عدلیہ کے خلاف جو بیان دیے ہیں وہ ان کے بیان سے کہیں زیادہ سخت اور نامناسب تھے اس لیے انھوں نے اپنا بیان واپس لینے یا اپنے بیان پر شرمندگی کا اظہار کرنے کی بجائے اپنی بات پر ڈٹ جانے کا فیصلہ کیا جس کے بعد چیف جسٹس نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ عمران خان کا جواب غیر تسلی بخش ہے، جب بھی کوئی سیاسی لیڈر عدالت میں آتا ہے تو ہمیں افسوس ہوتا ہے، عمران خان پر 22 ستمبر کو فردِ جرم عائد کریں گے۔ عدالت نے کیس میں معاونت کرنے والے عدالتی معاونین کا شکریہ بھی ادا کیا ۔