پاکستان تحریک انصاف کے چئیر مین کی راہ میں حائل رکاوٹیں دھیرے دھیرے سمٹتی جارہی ہیں کچھ روز قبل پیمرا نے عمران خان کی براہ راست تقاریر دکھانے پر پابندی عائید کی تھی تاہم اب سیلاب کی وجہ سے حالات نے پلٹا کھالیا ہے اور عدالتوں کو بھی ایسے فیصلے کرنے پڑگئے ہیں جن سے سیلاب میں گھرے لوگوں کی مدد کی جاسکے اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کے حکم کو معطل کردیا جس میں پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی تقاریر کی تمام سیٹلائٹ ٹی وی چینلز پر لائیو کوریج پر پابندی عائد کی گئی تھی۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ پیمرا نے پی ٹی آئی سربراہ پر پابندی لگا کر اختیارات سے تجاوز کیا۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ موجودہ حالات میں عمران خان کی تقاریر پر پابندی لگانے کا کوئی جواز نہیں۔اس سے قبل پیمرا نے پیمرا آرڈیننس 2002 سیکشن 27 کے تحت پابندی عائد کی تھی۔

ایک بیان میں پیمرا کے ترجمان نے کہا کہ عمران خان اپنی تقاریر میں اداروں پر بے بنیاد الزامات لگا رہے ہیں جس سے امن و امان میں خلل پڑ سکتا ہے۔اسلام آباد کے ایف 9 پارک میں احتجاجی جلسے سے خطاب میں کہا گیا کہ عمران خان نے لوگوں کو اداروں کے خلاف اکسانے کی کوشش کی تاہم عدالتوں کو اچھی طرح علم ہے کہ قوم عمران خان پر اعتماد کرتی ہے اور انہیں یقین ہے کہ صرف وہ پیسہ یا امداد سیلاب زدگان کو ملے گا جو خان کے ذریعے جائے گا یہی وجہ ہے کہ آج عدالت نے وہ فیصلہ دیا جو موافق حالات میں سنانے کو عدالت کو بھی قابل قبول نہ ہوتا ۔