پاکستان میں گزشتہ کئی سالوں سے اس بات پر بحث ہوتی رہی ہے کہ کالا باغ ڈیم بنا دیں تو سیلاب کا خطرہ کم ہوگا پورے ملک کے لیے پانی کی ضرورت پوری ہو سکے گی پانی کا ایک بہت بڑا ذخیرہ پاکستان کو مل جائے گا جو تحفہ خداوندی ہوگا اس پانی سے سستی بجلی بنے گی لوڈشیڈنگ کم ہوگی اور ملکی صنعتیں چلنے سے ملک ترقی کرے گا

مگر سیاستدانوں نے کسی کی ایک نہ سنی اپنی ایک قومی یا صوبائی اسمبلی کی سیٹ یا ایک علاقے نوشہرہ کو بچانے کے لیے پورے ملک کی زندگی داؤ پر لگا دی اور ساتھ ساتھ اللہ کی ناراضگی بھی مول لی اور اب نہ نوشہرہ محفوظ ہے نہ سوات نہ ڈیرہ غازی خان خشک ہے نہ بنوں- کاش یہ لوگ اس وقت عقل سے کام لے لیتے تو آج یہ حالات نہ ہوتے

اللہ تعالیٰ نے پاکستانیوں کی مدد کے لیے یہ پانی نعمت بنا کر بھیجا تھا مگر بے شرموں نے اسے آفت میں بدل دیا اگر یہ پانی ذخیرہ کرلیا جاتا ےو آج پاکستان کے چاروں صوبوں میں یہ وقیامت صغریٰ برپا نہ ہوتی اگر لوگ اج سے 10 سال پہلے پرویز مشرف کے کالا باغ ڈیم بنانے کی حمائت کرتے اس کے ساتھ کھڑے ہوتے تو آج اس عزاب سے بھی بج جاتے اور خوشخالی ان کے گھروں میںدستک دیتی ان کی زمین کو پانی ملتا فصلیں اچھی ہوتیں مگر افسوس ہم نے وہ وقت کھو دیا اور آج یہ حالت ہے کہ اس بات کا شدید امکان پیدا ہوگیا ہے کہ انے والے دنوں میں آٹے سبزیوں اور دیگر اشیا ء کی شدید قلت پیدا ہوجائے گی ‘ خدا ہماری اس قوم کو ہدایت دے جس نے بھٹو کو زندہ رکھنے کے لیے اپنے خاندان زمیں برد کروالیے

بلوچستان کے سرداروں کی غلامی کرتے رہے اور آج اس حال کو پہنچ گئے ہیں کہ ایک روٹی کے لیے امداد کے منتظر ہیں بھوک سے ان کے بچے مررہے ہیں اور وہ بلوچ سردار اپنے اپنے محلوں میں بیٹھے آج بھی پزے ،برگر ، بریانی اور روسٹ کھاکر ارام کی میٹھی نیند سو رہے ہیں

مگر جب یہ سیلاب گزر جائے گا تو اب نہ سندھ کے لوگ سندھی وڈیروں کو معاف کریں گے نہ بلوچی اپنے سردارونم کی بے حسی پر آنکھیں بند کریں گے بلکہ خود پر ہونے والے ہر ظلم کا حساب ان وڈیروں اور جاگیرداروں سے لیں گے اور اگر کچھ بھی نہیں کریں تو کم سے کم اپنے ووٹ تو کبھی ان بھیڑیوں کو نہیں دیں گے