اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے جمعہ کو نو قومی اسمبلی (این اے) پر ضمنی انتخابات 25 ستمبر کو کرانے کا اعلان کیا۔

ای سی پی اس سے قبل پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 11 ایم این ایز کے استعفے منظور کر چکا ہے۔ اس سال کے شروع میں عمران خان کی وزارت عظمیٰ سے برطرفی کے بعد لگ بھگ 131 قانون سازوں نے استعفیٰ دے دیا تھا۔

image source: Dawn

ضمنی انتخابات این اے 22 مردان، این اے 24 چارسدہ، این اے 31 پشاور، این اے 45 کرم، این اے 108 فیصل آباد، این اے 118 ننکانہ صاحب کے علاوہ این اے 237، 239 کے حلقوں میں ہوں گے۔ اور کراچی کے 246۔

ای سی پی کے جاری کردہ شیڈول کے مطابق امیدوار 10 سے 13 اگست تک کاغذات نامزدگی جمع کراسکتے ہیں، فارمز کی تصدیق 17 اگست تک کی جائے گی جب کہ امیدواروں کو انتخابی نشان 29 اگست کو جاری کیے جائیں گے۔

قومی اسمبلی کے سپیکر راجہ پرویز اشرف نے پی ٹی آئی کے 11 ارکان کے استعفے تین ماہ سے زائد عرصے بعد منظور کر لیے۔ پارٹی نے پارٹی قانون سازوں کی مرحلہ وار نامزدگی کا فیصلہ کیا ہے۔
قومی اسمبلی کے سپیکر نے پی ٹی آئی کے کئی اہم رہنماؤں کے استعفے منظور کر لیے جن میں سابق وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری، سابق وزیر داخلہ اعجاز احمد شاہ، سابق وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان اور سابق وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات فرخ حبیب شامل ہیں۔

پی ٹی آئی کے جن دیگر قانون سازوں کے استعفے منظور کیے گئے ہیں ان میں فضل محمد خان، شوکت علی، فخر زمان خان، جمیل احمد خان، محمد اکرم چیمہ، عبدالشکور شاد اور شاندانہ گلزار خان شامل ہیں۔

واضح رہے کہ مزاری اور شاندانہ بالترتیب پنجاب اور خیبرپختونخوا سے خواتین کی مخصوص نشستوں پر منتخب ہوئی تھیں۔ راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ استعفے قانون کے تحت قبول کیے جائیں گے۔

این اے سیکرٹریٹ کے حکام نے بتایا کہ استعفے قومی اسمبلی میں قواعد و ضوابط اور کاروبار کے 2007 کے تحت شرائط کو پورا کرنے کے بعد منظور کیے گئے۔