لاہور: پاکستان نے بھارت سے دریائی پانی کے متنازعہ منصوبوں کے معائنے کے شیڈول کا مطالبہ کیا ہے۔

پاکستان کے انڈس واٹر کمشنر نے اپنے بھارتی ہم منصب اے کے پال سے ٹیلی فونک گفتگو میں متنازعہ بھارتی آبی منصوبوں کے معائنے کے شیڈول کا مطالبہ کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق انڈس واٹر کمشنر نے زیر تعمیر کیرو اور رتلے ہائیڈرو الیکٹرک پاور پراجیکٹس کے معائنے کا مطالبہ کیا ہے۔ پاکستان نے اس سے قبل چناب پر کیرو اور رتلے پاور پراجیکٹس کے ڈیزائن پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

India's new dams will stop 5 per cent water to Pakistan
Image Source: DC

ذرائع نے بتایا کہ پاکستان کے آبی عہدیدار نے مشرقی دریاؤں ستلج، بیاس اور راوی پر بنائے جانے والے ڈیموں کے معائنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

واٹر کمشنر نے ستلج پر بھاکڑا ڈیم اور بیاس پر پونگ ڈیم کے معائنے کے شیڈول پر زور دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستانی آبی حکام دریائے راوی پر تھین ڈیم اور فیروز پور ہیڈ ورکس کا بھی دورہ کرنا چاہتے ہیں۔

سال 1960 کے انڈس واٹر ٹریٹی کے تحت تین مشرقی دریاؤں ستلج، بیاس اور راوی کا پانی غیر محدود استعمال کے لیے بھارت کو دیا جاتا ہے جب کہ تین مغربی دریاؤں سندھ، جہلم اور چناب کا پانی پاکستان کو جاتا ہے۔

نئی دہلی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ تین مغربی دریاؤں پر دریائی منصوبوں کے ذریعے پن بجلی پیدا کرے، ڈیزائن کے مخصوص معیار کے ساتھ۔

پاکستان اس معاہدے کے تحت مغربی دریاؤں پر بھارتی ہائیڈرو الیکٹرک منصوبوں کے ڈیزائن پر اعتراضات اٹھا سکتا ہے۔