اسلام آباد: صدر مملکت عارف علوی نے کہا ہے کہ ایوان صدر صرف اسی صورت میں بات چیت کر سکتا ہے جب تمام فریق مذاکرات پر راضی ہوں۔

صدر مملکت عارف علوی نے منگل کو سینئر صحافیوں سے ملاقات کی اور کہا کہ انہیں آرمی چیف کی جلد تقرری پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایوان صدر مذاکرات میں ثالثی کر سکتا ہے لیکن صرف اس صورت میں جب تمام جماعتیں میز پر بیٹھنا چاہیں۔

سربراہ مملکت نے کہا کہ ان کی رائے میں واضح مینڈیٹ ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس نے کوئی غداری نہیں کی، اگر کسی نے کی ہے تو اس کا احتساب ہونا چاہیے۔

عارف علوی نے کہا کہ دھمکی آمیز سائفر کی مکمل تحقیقات ہونی چاہیے تاکہ لوگوں کو اس کی حقیقت معلوم ہو سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو سبوتاژ نہیں کرنا چاہتا۔

علوی نے مزید کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ ان کے اور وزیراعظم کے تعلقات کشیدہ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بطور صدر ان کے پاس کوئی بات چیت شروع کرنے کا اختیار نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب سے اس حکومت نے چارج سنبھالا ہے مجھے کل 74 سمریاں بھیجی گئیں، میں نے ان میں سے 69 پر فوراً دستخط کر دیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ باقی سمریاں کسی کے دباؤ کی وجہ سے روکی نہیں گئیں۔