وزیراعظم محمد شہبازشریف نے سکھر حیدرآباد موٹروے منصوبے کو جلد شروع کرنے کی ہدایت کی ہے۔

جمعرات کو اسلام آباد میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے جاری تعمیراتی منصوبوں کی پیش رفت سے متعلق جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیر اعظم نے قراقرم ہائی وے کے تھہ کوٹ-رائے کوٹ سیکشن، بابوسر ٹنل اور خضدار کچلاک روڈ پر جلد سے جلد کام شروع کرنے کی ہدایت کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ منصوبوں کے ٹھیکے دینے کے طریقہ کار کو مزید شفاف بنایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ملک ترقیاتی منصوبوں میں مزید تعطل کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ مجرمانہ غفلت کی وجہ سے گزشتہ چار سالوں میں ترقی کا سفر روکا گیا۔

Prime Minister Shahbaz Sharif will address the nation on Friday News-Pipa |  News PiPa
Image Source: PiPa

وزیراعظم نے متعلقہ حلقوں سے کہا کہ وہ بین الاقوامی کمپنیوں کی تصدیق کے لیے پاکستانی سفارت خانوں سے تعاون حاصل کریں۔

انہوں نے کہا کہ متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک و قوم کا وقت اور پیسہ بچانے کی ہر ممکن کوشش کریں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے خریداری کے عمل کو بہتر بنانے کے لیے کمیٹی کے قیام کی منظوری دے دی۔

اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، مولانا اسد محمود، وزیراعظم کے مشیر احد چیمہ، چیئرمین این ایچ اے اور متعلقہ سینئر حکام نے شرکت کی۔

وزیراعظم کو سکھر حیدرآباد موٹروے منصوبے کے حوالے سے تفصیلات سے آگاہ کیا گیا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ ایم6 سکھر حیدرآباد موٹروے کراچی پشاور موٹر وے کا ایک اہم حصہ ہے جس پر کام گزشتہ حکومت کی سست روی کے باعث تعطل کا شکار تھا۔ 306 کلومیٹر طویل سکس لین موٹروے چھ اضلاع سے گزرے گی جس میں 15 انٹرچینجز ہوں گے۔

موٹر وے کے قیام سے سفری وقت میں کمی کے ساتھ ساتھ ایندھن کی بچت ہوگی اور پاکستان بھر سے برآمدات کے لیے کراچی کی بندرگاہوں تک رسائی میں آسانی ہوگی۔

منصوبے پر کام چھ ماہ میں شروع ہو جائے گا اور 2.5 سال میں مکمل ہو گا۔

ECIL - Projects - Islamabad Peshawar Motorway, Construction Supervision  Services
Image Source: ECIL

250 کلومیٹر شاہراہ قراقرم (تھہ کوٹ رائے کوٹ سیکشن) کے حوالے سے اجلاس کو بتایا گیا کہ اس کی فزیبلٹی رپورٹ پر کام جاری ہے جو سات ماہ میں مکمل ہو جائے گا، جس سے پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی ٹریفک کی روانی میں اضافہ ہوگا۔

بابوسر ٹنل کے حوالے سے اجلاس کو بتایا گیا کہ ٹنل کے علاوہ 66 کلومیٹر سڑک کا ایک مکمل حصہ بنایا جائے گا اور موجودہ سڑک کی بحالی کی جائے گی۔ موسم سرما میں برف باری کے دوران ٹریفک کی روانی کے لیے ہائی وے کے اس حصے پر سنو گیلریاں بھی بنائی جائیں گی۔ وزیراعظم نے منصوبے کو شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے فروغ کے لیے انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے منصوبے کو بین الاقوامی معیار کے مطابق مکمل کرنے کی ہدایت کی۔

وزیراعظم کو خریداری کے طریقہ کار کے بارے میں بھی تفصیل سے آگاہ کیا گیا۔ وزیراعظم نے خریداری کے عمل کو بہتر اور ہموار کرنے کے لیے جامع تجاویز مرتب کرنے کے لیے نو رکنی کمیٹی تشکیل دی۔ کمیٹی وفاقی وزیر برائے مواصلات، وزیر ہاؤسنگ، ایم ڈی پی پی آر اے، چیئرمین پی ای سی پر مشتمل ہوگی۔ وزیراعظم نے کمیٹی کو ایک ماہ میں ایکشن پلان پیش کرنے کی ہدایت کی۔