وزیراعظم شہباز شریف نے وزارت داخلہ سے تفصیلی بریفنگ لینے کے بعد وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کو ہدایت کی کہ عمران کے ساتھ چیف سیکیورٹی آفیسر تعینات کیا جائے۔ وزیراعظم نے صوبائی حکومت سے پی ٹی آئی کے سربراہ کو سیاسی اجتماعات اور جلسوں کے دوران سیکیورٹی فراہم کرنے کا بھی کہا-ایک بیان میں ترجمان وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے حکم پر عمران کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کی گئی ہے۔

اس میں کہا گیا ہے کہ عمران کی رہائش گاہ بنی گالہ میں 22 اسلام آباد پولیس اہلکاروں سمیت کم از کم 94 سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ اسی طرح سابق وزیر اعظم کی حفاظت کے لیے خیبرپختونخوا کے 36 پولیس اہلکار اور گلگت بلتستان سے 6 پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔اس کے علاوہ نجی سیکیورٹی کمپنیوں عسکری اور ایس ایم ایس نے بھی عمران کی رہائش گاہ کی حفاظت کے لیے 35 سیکیورٹی گارڈز تعینات کیے تھے۔

اس کے علاوہ اسلام آباد سے باہر سفر کے دوران اسلام آباد پولیس کی 4 گاڑیاں 23 پولیس اہلکاروں کے ساتھ اور پاکستان رینجرز کی ایک گاڑی پانچ اہلکاروں کے ساتھ عمران کی حفاظت کے لیے سفر کرے گی۔وزارت کے ترجمان کے مطابق وزیر اعظم شہباز کی ہدایت پر تھریٹ اسسمنٹ کمیٹی پی ٹی آئی رہنما کو ملنے والی مبینہ دھمکیوں کا مسلسل جائزہ لے رہی ہے۔