آج کل کے لوگ جن میں نوجوان مرد اور خواتین کی بھی ایک بہت بڑی تعداد شامل ہے اکثر تھوڑے سے کام کے بعد تھک جانے اور کمزوری محسوس کرنے کی شکایت کرتے ہیں- طبی ماہرین کہتے ہیں کہ اس کی نوعیت مختلف افراد میں مختلف ہوتی ہے ، صبح بیدار ہونے پر کچھ لوگوں کا بستر سے اٹھنے کو جی نہیں کرتا، وہ اپنے اندر توانائی محسوس نہیں کرتے، کچھ لوگ کام سے گھر لوٹتے ہیں تو شدید تھکن کا شکار ہوتے ہیں، کچھ اہم میٹنگ میں تھکاوٹ کی وجہ سے معاملات پر ٹھیک سے توجہ مرکوز نہیں کر پاتے۔ -ڈاکٹروں کے پاس جاکر ہزاروں روپے خرچ کرکے بھی ان کی صحت اور سٹیمنے کی بحالی نہیں ہو پاتی – اگر آپ کے ساتھ بھی ایسا ہی کچھ مسئلہ ہے تو اس کے لیے سب سے پہلے آپکو اپنا وٹامن ڈی کا ٹیسٹ کروانا چاہیے کہ کہیں آپ میں اس کی کمی تو نہیں، کیونکہ ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ وٹامن ڈی کی کمی سے انسان نقاہت اور تھکاوٹ کا عارضہ لاحق ہو جاتا ہے اور بالواسطہ طور پر اس سے انسان کی ہڈیاں بھی کمزور ہوتی ہیں۔ یہ تحقیق برطانیہ کے شہرایڈمبرگ کی ایک میڈیکل ٹیم نے کی ہے۔ ماہرین نے کچھ رضاکاروں کو 20منٹ تک سائیکل چلانے کو
کہاگیا۔ ان میں سے کچھ لوگوں کو نقلی گولی یعنی پلیسیبو(Placebo) جبکہ باقی کو وٹامن ڈی کی خوراک دی گئی تھی۔ سائیکل چلانے کے بعد ماہرین نے ان کا معائنہ کیا اور تھکاوٹ کا چیک کی۔ دو ہفتے بعد انہی لوگوں کو ایک بار پھر 20منٹ تک سائیکل چلانے کو کہا گیا مگر اس بار ان لوگوں کی خوراک تبدیل کر دی۔
پہلے جن لوگوں کو پلیسیبو دیا گیا تھا انہیں وٹامن ڈی دے دیا اور جنہیں وٹامن ڈی دیا گیا تھا انہیں پلیسیبو دے دیا گیا۔ دونوں بار ان افراد میں تھکاوٹ کے آثار انتہائی کم تھے جنہیں وٹامن ڈی کی خوراک دی گئی تھی۔ اس کے برعکس جن لوگوں کو پلیسیبو دیا گیا تھا وہ سائیکل چلانے کے بعد بہت زیادہ تھکے ہوئے تھے۔ برطانوی اخبار ”ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ ”آج کل لوگوں میں وٹامن کی کمی عام پائی جاتی ہے اس لیے آج کل لوگ زیادہ تھکاوٹ کا شکار ہوتے ہیں۔ چونکہ وٹامن ڈی انسانی جسم میں کیلشیم کے انہضام کے لیے انتہائی ضروری ہے اور کیلشیم ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے۔ اس لیے وٹامن ڈی کی کمی سے بالواسطہ طور پر انسان کی ہڈیاں بھی کمزور ہوتی ہیں۔ “