وزیراعظم شہباز شریف نے آج ایک بار پھر چین کی بروقت مدد پر چین کا شکریہ ادا کیا مگر وہ آئی ایم ایف کی جانب سے امداد نہ ملنے پر بےچین نظر آئے -ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف معاہدے میں غیر معمولی تاخیر ہورہی ہے مگر چین ایک بار پھر ہمارے ریسکیو کیلئے سامنے آیا اور بے مثال مدد کی ۔
وفاقی دارالحکومت میں چشمہ 5 نیوکلیئر کی تعمیرکی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تقریب ہوئی جس میں وزیراعظم شہباز شریف شریک ہوئے۔
انھوں نے کہاعظیم دوست چین اور پاکستان کے لیے یہ اہم موقع ہے، 1200 میگاواٹ کے چشمہ سی فائیو کے ایم او یوپر دستخط کردیئےہیں، منصوبے پر بغیر کسی تاخیر کے شروع کیا جائے گا، چار اعشاریہ آٹھ ارب ڈالر کا یہ منصوبہ پیغام ہے کہ چینی سرمایہ کارپاکستان پر اعتماد کرتے ہیں، معاہدے سے پاکستان چین تعلقات کو فروغ ملے گا۔
صدر شی جن پنگ نے پاک چین دوستی کو آہنی برادرز کی دوستی قراردیا ہے، اس منصوبے کو نواز شرریف کے دور میں لگانے کا فیصلہ ہوگیا تھا، پچھلی حکومت نے اس منصوبے کو سردخانے میں ڈال دیا تھا، پاکستان کی نئی فوجی قیادت کا بھی شکرگزارہوں کہ اس منصوبے میں گہری دلچسپی لی، یہ منصوبہ سول اور ملٹری لیڈرشپ کے ون پیج پر ہونےکا نتیجہ ہے ۔ شہباز شریف نے پاکستان کے برادر اسلامی ممالک کا بھی تزکرہ کیا ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اور قطر تاحال پاکستان کی مدد کررہے ہیںوزیر اعظم کا کہنا تھا کہ دنیامیں افراط زر کے باعث قیمتیں بڑھ گئی ہیں اور چینی کمپنی نے افراط زر کے باوجود قیمتیں نہیں بڑھائیں، چینی کمپنی نے میری درخواست پر 30ارب روپے کی رعایت دی ہے۔