سینئر صحافی اسد علی طور نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی اور کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کی گرفتاری کا فیصلہ کرلیا گیا ہے، موجودہ حکومت نے ان پر کرپشن ، دہشتگردی ، فوج میں بغاوت کی کوشش اور سیاست میں مداخلت جیسے الزامات عائید کیے ہیں۔
اپنے ولاگ میں اسد طور کاکہناتھاکہ فیض حمید کا کورٹ مارشل کیا جائے گا یا سویلین اتھارٹی کے ذریعے گرفتار کیا جائے گا، یہ فیصلہ ہونا باقی ہے لیکن ان کی گرفتاری کسی بھی وقت ہوسکتی ہے ۔ اسد طور نے کہا کہ فوج میں ایک نظام ہوتا ہے، فیض حمید اکیلے نہیں تھے ، انہوں نے باجوہ ڈاکٹرائن کو نافز کرنے کی کوشش کی کیا، فیض حمید اگلا آرمی چیف بننے کے لیے ہر جائز اور ناجائز حربے اپنا رہے تھے ، عمران خان کے دور حکومت میں گرفتار کیے جانے والے سحافی نے موجودہ حکومت پر بھی بزدلی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ قمر جاوید باجوہ کو بھی ساتھ چارج کیا جانا چاہیے لیکن اب مسلم لیگ (ن) بھی قمر جاوید باجوہ کا نام نہیں لیتی ، اگر کوئی ڈیل نہیں ہوئی تو مریم نواز ان کا نام کیوں نہیں لے رہیں؟ ماضی میں تو لیا جاتا رہا۔