عاصمہ جہانگیر
کل لاہور کے اواری ہوٹل میں عاصمہ جہانھیر کانفرنس کا انعقاد ہوا جس مین بلاول بھٹو کے ساتھ ساتھ دیگر شرکاء نے شرکت کی ان ہی میں منظور پشتین بھی تھے مگر دوران تقریر وہ پاک فوج کے خلاف کھل کر بولے مگر کیونکہ ان کی تقریر ٹی وی پر براہ راست دکھائی جارہی تھی اس لیے وہ اداروں کی پکڑ میں آگئے مگر اسی پروگرام میں حامد میر نے بھی اداروں کے خلاف کھل کر زہر اگلا مگر ابھی تک ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوئی مگر وہ بھی زیادہ عرصہ تک آزاد پھر نہیں پائیں گے اور جلد گرفت میں ہوں گے
لاہور پولیس نے پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما منظور پشتین کے خلاف دہشت گردی اور ریاست کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔درج ایف آئی آر کے متن کے مطابق پشتین کے خلاف دہشت گردی، بغاوت اور اداروں کے خلاف اکسانے کے الزامات شامل کیے گئے ہیں۔منظور پشتین نے اتوار کے روز لاہور کے آواری ہوٹل میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں ’ریاستی جبر‘ کے خلاف تقریر کی۔مقدمہ نعیم مرزا نامی شہری نے انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997-11-X کے تحت سول لائنز تھانے میں درج کرایا ہے۔
شکایت کنندہ کا دعویٰ ہے کہ وہ عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں شرکت کے لیے لاہور کے آواری ہوٹل میں تھا جہاں منظور پشتین نے “اپنی تقریر کے دوران ریاستی حکام اور کمانڈروں کو بلاجواز تنقید کا نشانہ بنایا”۔ایف آئی آر میں مزید کہا گیا کہ پشتین نے عوام پر زور دیا کہ وہ ریاست اور فوج کے خلاف بغاوت کریں۔ایف آئی آر کے مطابق، پشتین نے بغیر کسی جواز کے قومی سلامتی کے اداروں پر تنقید کی۔مزید برآں، منظور پشتین کے 15-20 ساتھی ہال میں پاک فوج کے خلاف کھل کر نعرے لگاتے رہے۔
پشتین کی تقریر نے نسلی تعصب کو ہوا دی، اور پوری ریاست کو دھمکی دی اور اس کے کہنے پر اسے جوابدہ ہونا چاہیے۔امید ہے کہ عدالتیں ان کا احتساب کریں گی