حکومت کو پہلا جھٹکا؛ سپریم کورٹ نے اتحادی حکومت کا بنایا ریویو آف آرڈرز اینڈ ججمنٹس ایکٹ قانون کالعدم قرار دے دیا

سابقہ حکومت نے سپریم کورٹ کے پر کترنے کے لیے جو قانون پاس کیے تھے اس میں ایک سپریم کورٹ ریویو آف آرڈرز اینڈ ججمنٹس ایکٹ بھی پاس کیا گیا تھا جس پر سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کی درخواست پر اس کا نوٹس کیا تھا اور 19 جون کو اس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا جو آج جاری کیا گیا –سپریم کورٹ ریویو آف آرڈرز اینڈ ججمنٹس ایکٹ کالعدم قرار دیدیا گیا ۔
سپریم کورٹ نے متفقہ طور فیصلہ سنایا، فیصلہ سنانے والے ججز میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال شامل ہیں ۔ ،چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال، جسٹس منیب اختر اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل بنچ نے سماعت کی ،چیف جسٹس پاکستان نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ ایسی قانون سازی کا اختیار نہیں رکھتی، سپریم کورٹ ریویو آف آرڈرز اینڈ ججمنٹس ایکٹ غیرآئینی ہے۔

 

یاد رہے کہ ایکٹ کے تحت آرٹیکل 184تھری کے مقدمات کے فیصلے کے خلاف متاثرہ فریق کو اپیل کا حق دیا گیا تھا، ایکٹ کے تحت اپیل سننے والے بنچ میں ججز کی تعداد مرکزی کیس سننے والے ججز سے زیادہ ہونا لازم ہے ، پی ٹی آئی سمیت انفرادی حیثیت میں وکلا نے اس ایکٹ کو چیلنج کیا تھا۔
اس فیصلے کے تھوڑی دیر بعد ہی سپریم کورٹ نے 87صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کردیا،3رکنی بنچ نے متفقہ طور پر 51صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا، جسٹس منیب اختر نے 30صفحات پر مشتمل اضافی نوٹ تحریر کیا۔
سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا ہے کہ آئینی عدالتوں کا فرض ہے کہ وہ آئین کا تحفظ اور دفاع کریں،عدالتوں کو آئین کی حکمرانی قائم کرنے کا اختیار دیا گیا ہے، فیصلے میں کہا گیا ہے کہ قانون آئین کے مطابق ہے یا نہیں؟ پاکستان کی سب سے بڑی عدالت یہ سمجھتی ہے کہ ،ریویوآف ججمنٹس اینڈ آرڈرز ایکٹ آئین سے متصادم ہے، اس لیے سپریم کورٹ ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈرز ایکٹ کالعدم قرار دیاجاتا ہے، اور اس حوالے سے سابقہ حکومت نے جو غیر آئنی قانون سازی کی تھی وہ غلط اور ناجائز تھی اس لیے سپریم کورٹ اس قانون سازی کو معطل کرتی ہے ۔

 

سپریم کورٹ نے کہاہے کہ سپریم کورٹ ریویو ایکٹ کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ،پارلیمنٹ سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار سے متعلق قانون سازی نہیں کر سکتی، طے شدہ اصول ہے کہ سادہ قانون آئین میں تبدیلی یا اضافہ نہیں کرسکتا-تفصلی فیصلے میں مزید کہا گیاہے کہ نظرثانی کا دائرہ کار اپیل تک بڑھانے کا مطلب آئین میں ترمیم ہے، آئین میں ترمیم عام قانون سازی کے ذریعے ممکن نہیں،قانون برقرار رہا تو نظرثانی درخواستوں کا سیلاب امڈ آئے گا-
ریویو آف آرڈرز اینڈ ججمنٹس ایکٹ کیس کے فیصلے میں جسٹس منیب اختر نے 30 صفحات پر مشتمل تفصیلی اضافی نوٹ تحریر کیا ہے جس میں بتایا گیا کہ اپیل اور نظرثانی مترادف نہیں بلکہ مختلف چیزیں ہیں،پارلیمان کے قانون سازی اور سپریم کورٹ کے رولز بنانے کے اختیارات برابر ہیں،پارلیمان کی سادہ قانون سازی سے سپریم کورٹ رولز کو غیرموثر نہیں کیا جا سکتا۔

Related posts

عمران خان کی دونوں بہنوں کے خلاف عدالتی فیصلہ محفوظ

جو ججز کے خلاف مہم چلائے گا اڈیالہ جیل جائے گا؛ فل کورٹ کا فیصلہ

میں عمران خان کو ویڈیو لنک پر دیکھنا چاہتا ہوں ؛ اے ٹی سی جج کا حکم