چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے الیکٹرک ووٹنگ مشینوں کے استعمال یا سمندر پار پاکستانیوں کے ووٹ ڈالنے کی مخالفت کبھی نہیں کی۔انہوں نے کہا کہ ان کے خلاف پروپیگنڈہ” کیا جاتارہاہے اور انتخابی نگران کو “غیر ضروری تنقید” کا سامنا ہے۔
سکندر سلطان کا کہنا تھا کہ “میں تمام ناقدین کو چیلنج کرتا ہوں کہ وہ ایک مثال دکھائیں جہاں ای سی پی نے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں یا سمندر پار پاکستانیوں کے حق رائے دہی کی مخالفت کی، لیکن اس کے لیے ایک طریقہ کار ہونا چاہیے۔” انہوں نے زور دیا کہ کسی کو مجموعی طریقہ کار پر غور کیے بغیر ای وی ایم کے حق میں نعرے لگانے سے گریز کرنا چاہیے۔ جو پورے انتخابی عمل کو “مشکوک” بنا دے گا۔
انہوں نے یہ ریمارکس چئیرمین پاکستان تحریک انصاف اور اس کے سربراہ عمران خان کی طرف سے کیے جانے والے الزامات پر دیے گئے ، جنہوں نے متعدد مواقع پر ای سی پی پر ای وی ایم کے استعمال کی ‘مخالفت’ کرنے کا الزام لگایا۔سابق حکمراں جماعت نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ اعلیٰ ترین پولنگ نگران ادارے دیگر سیاسی جماعتوں اور اداروں کے ساتھ مل کر اسے غیر ضروری مشکل وقت سے دوچار کر رہے ہیں۔
بدھ کو تقریب سے خطاب کرتے ہوئےالیکشن کمیشن کے سربراہ نے کہا کہ کمیشن نے ای وی ایم یا بیرون ملک ووٹوں کی مخالفت نہیں کی لیکن اس بات پر زور دیا کہ انتخابی عمل میں شفافیت لازمی ہے۔سی ای سی راجہ نے یہ بھی کہا کہ حلقوں کی حد بندی میں چھ ماہ لگیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ای سی پی نہیں چاہتا کہ انتخابات جلد بازی میں کرائے جائیں کیونکہ اگر ایسا ہوتا ہے توے تو انتخابی نتائج پر شکوک پیدا ہوں۔اور پھر ہارنے والی سیاسی جماعتیں الیکشن کمیشن پر دوبارہ انگلیا�ں اٹھائیں گی –