افغان حکومت کا پب جی اور ٹک ٹاک پر پابندی لگانے کا فیصلہ

Afghan journalist Banafsha Binesh speaks during an interview with the Associated Press, at TOLO TV newsroom in Kabul, Afghanistan, Tuesday, Feb. 8, 2022. Binesh fear haunts every step when she leaves her home each morning for the newsroom at Afghanistan's largest television station in the Afghan capital Kabul. A December survey jointly carried out by Reporters Without Borders and the Afghan Independent Journalist Association, reported "a total of 231 media outlets have had to close and more than 6,400 journalists have lost their jobs", since the Taliban's August arrival in the Afghan capital. (AP Photo/Hussein Malla)

میڈیا رپورٹس میں طالبان کی زیر قیادت ٹیلی کمیونیکیشن ڈپارٹمنٹ کے ایک اعلان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ افغان طالبان اگلے تین ماہ میں ملک میں دو مقبول ترین ویڈیو شیئرنگ اور گیمنگ ایپلی کیشنز پب جی اور ٹک ٹاک پر پابندی لگانے جا رہے ہیں۔
فون ایپس افغانوں میں مقبول ہیں، جن کے پاس گزشتہ سال اس گروپ کے اقتدار میں آنے اور موسیقی، فلموں اور ٹیلی ویژن کے پروگراموں پر پابندی کے بعد سے تفریح ​​کے لیے چند ائٹمز ہی رہ گئی ہیں۔
خامہ پریس نے رپورٹ کیا کہ پابندی کا اعلان سیکورٹی سیکٹر کے نمائندوں اور شرعی قانون نافذ کرنے والی انتظامیہ کے ایک نمائندے کے ساتھ ایک میٹنگ کے دوران کیا گیا۔

 

یہ اعلان افغانستان میں طالبان کی جانب سے “غیر اخلاقی مواد” کی نمائش پر 23 ملین سے زائد ویب سائٹس کو بلاک کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ طالبان حکام نے ٹیلی کمیونیکیشن اور انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والوں سے کہا ہے کہ وہ مقررہ وقت کے اندر رہنما اصولوں پر عمل کریں۔
طالبان نے – گزشتہ سال اگست 15 کو افغانستان پر قبضہ کرنے کے بعد سے خواتین کے حقوق، میڈیا کی آزادی اور سرکاری اہلکاروں کے لیے عام معافی کا وعدہ کیا تھا ۔
تاہم خواتین کو گھر میں رہنے کا حکم دینے، نوعمر لڑکیوں کو اسکول جانے سے روکنے، اور مرکزی دھارے اور سوشل میڈیا پر پابندی اور عوامی وعدوں کے خلاف سخت قوانین اپنانے پر ان پر ایک بار پھر تنقید کی جارہی ہے

Related posts

فواد چوہدری نے شاہد آفریدی کو ” ڈفر ” قرار دے دیا

لاہور کے کئی علاقوں میں ہر گھنٹے بعد لوڈشیڈنگ ہورہی ہے ؛نجی چینل کا دعویٰ

سائفر کیس میں کپتان اور نائب کپتان کی سزا معطلی پر رانا ثنا اللہ کا ردعمل