استعفے کی بات اور صحافیوں کے سخت سوالات نے اسحاق ڈار کا پارہ ہائی کردیا

ملکی معیشت کو تباہی کے دہانے پر لانے والے وزیر خزانہ پر اس وقت ان پر وہ صحافی بھی تنقید کررہے ہیں جو مسلم لیگ کے حق میں کھل کر باتیں کرتے تھے -بہت سے صحافی ان کے آئئی ایم ایف کو للکانے پر بھی تنقید کررہے ہیں کہ ان کے اس طرح کے بڑے بول اور دھمکیوں کی وجہ سے آئی ایم ایف اس حکومت کی ایک بھی بات سننے پر تیار نہیں ہے اور انہیں ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا ہوا ہے -آج ایک بار پھر اسحاق ڈار صحافیوں کے سامنے آئے تو سخت سوالات نے ان کا پارہ ہائی کردیا -جب صحافیوں نے ان سے سوالات کرنے کی کوشش کی تو وہ کوریڈور میں تیزی سے اپنے دیگر ساتھیوں سے آگے بڑھتے رہے اور کہتے رہے کہ “4 بج کر 10 منٹ پر”آئیں، صحافیوں نے متعدد بار بات کرنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے ہر بار جواب میں “4 بج کر 10 منٹ پر” بات ہوگی ۔

اس پر صحافیوں نے ان پر ایک اور سخت سوال جڑ دیا کہ صحافیوں کو متعدد سوالات کی کوشش میں جب جواب نہ ملا اور ایک ہی جملہ بار بار سسنے کو ملتا رہا تو ایک صحافی نے کہا کہ ” سنا ہے آپ استعفیٰ دینے جارہے ہیں؟”اسحاق ڈار کے چہرے کے پہلے تاثرات تبدیل ہوئے پھر انہوں نے اپنے اعصاب پر قابو پاکر قہقہ لگا کر کہا کہ ” آپ کو تکلیف ہے میرے کام کرنے سے؟”، ایک اور صحافی نے پوچھا کہ شبرزید ی کہہ رہے ہیں کہ آپ استعفیٰ دینے جا رہے ہیں؟” شبر زیدی کا نام سن کر گاڑی کے پاس پہنچتے ہوئے وزیر خزانہ نے صحافی کو مڑ کر دیکھااور پھر جواب دیتے ہوئے کہا کہ شبرزیدی نے ملک کا جو بیڑا غرق کیاہے وہ سب کو پتا ہے، وہ اربوں روپے کا ری فنڈ دے کر چلا گیا، اسے تو جیل میں ہونا چاہیے۔ اب صحافیوں کو 4 بج کر 10 منٹ کا انتظار ہے کہ اسحاق ڈار ان کا سامنا کرتے ہیں یا وہ اپنی جان چھڑانے کے لیے یہ بات کررہے تھے –

Related posts

ضد اور نفرت چھوڑیں : عوام اور ملکی مفاد کے فیصلے کریں ؛عارف عباسی

نواز شریف کا پاک فوج کے آپریشن عزم پاکستان کی حمایت کا اعلان

شاہد خاقان عباسی نے ’ عوام پاکستان پارٹی ‘ کی بنیاد رکھ دی