عوامی نیشنل پارٹی کب تک میتیں اٹھاتی رہے گی؟؟؟ :پاکستانیوں کا سوال

اے -این- پی کے شہدا میں ایک اور لیڈر کا اضافہ

  عوامی نیشنل پارٹی گزتہ دس سالوں سے شدت پسندوں کے رحم و کرم پر ہے بشیر بلور ۔میاں افتخار حسین کے صاحب زادے اس کے علاوہ  ہارون بلور سمیت سینکڑوں کارکنان ،طالبان اور شدت پسندوں کے ہاتھوں جان گنوا بیٹھے ہیں –  چند روز قبل ان شہدا میں ایک اور شہید کا اضافہ ہوگیا ،جن کا نام عبیداللہ کاسی تھا عبیداللہ کاسی کو ابدی نییند سلانے سے قبل وحشی دشمنوں نے انہیں بہت زدوکوب کیا جس کے واضح نشانات دیکھے جاسکتے ہیں اے این پی رہنما عبید اللہ کانسی کو 26 جون کو بلوچستان کے کچلاک کے علاقے کٹییر سے اغوا کیا گیا تھا۔ لیویز حکام کے مطابق ان کی باڈی بلوچستان کے ضلع پشین کی تحصیل سرانان سے ملی ہے۔اس کے بعد میت کو پوسٹ مارٹم کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال پشین بھیج دیا گیا جہاں سول ہسپتال پشین کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر سلیم اللہ پٹھان نے بتایا کہ  میت تقریبا  چار دن پرانی ہے اور اس نے موت کی وجہ بندوق کے زخموں کی نشاندہی کی ہے۔یہ خبر سنتے ہی اے این پی کے کارکنوں کی بڑی تعداد ہسپتال پہنچ گئی اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔

 IMAGE SOURCE: Daily Parliament Times

اے این پی کے رہنما اور قبائلی عمائدین بھی ہسپتال سے لاش برآمد ہونے پر میت کی رہائش گاہ پر پہنچے۔اے این پی کے کارکنوں نے ٹائر جلا کر منان چوک پر ٹریفک بلاک کر دی۔ انہوں نے نعرے لگاتے رہے اور کاسی کے قاتلوں کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا۔سڑک بند ہونے سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی اور منان چوک اور اس کے اطراف میں ٹریفک جام رہی۔   اے این پی نے کاسی کے اغوا پر شدید تشویش کا اظہار کیا تھا اور اس  نر بہیمانہ تشدد کرنے والے ظالموں کی گرفتاری کا بھی مطالبہ کیا  ۔   اے این پی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ بلوچستان حکومت کاسی کی بازیابی کے لیے موثر اقدامات کرنے میں ناکام رہی ہے۔

 

 

انہوں نے کہا تھا کہ اے این پی اس واقعے پر گہری تشویش میں ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر  اس واردات میں ملوث افراد کو 72 گھنٹوں میں گرفتار نہ  کیا گیا تو پارٹی اپنے مستقبل کے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔حسین نے کہا کہ اس طرح کے واقعات نے پختونوں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کیا ہے ، انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان کے حالات کو ایک منظم سازش کے ذریعے خراب کیا جا رہا ہے اور یہ حکومت اور ریاستی اداروں کا فرض ہے کہ وہ لوگوں کی جان کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔ہاد رہے کہ عوامی نیشنل پارٹی طالبان کی ہٹ لسٹ پر رہی ہے جو ان پرمسلسل ماضی میں بھی حملے کرتے ہے ہیں اور  عبیداللہ کاسی کا اغوا بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے


۔

Read Previous

Ghulam Sarwar said Skardu airport will soon be able to handle foreign planes.

Read Next

Twitter is outraged that Zahir Jaffer is being treated like a VIP in prison.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *